غوطہ زن ہو کے بحر سخن اندر صدف لب لے بحر عمیق وچوں نگاہ بلند تے دل بینا باہجوں آئے کتھوں سوزِ شفیق وچوں ساحل سخن تے بکھرے انمل موتی چن لے گوہر مرجان عقیق وچوں فن سخن رکھے کجھ ایسا کمال عزمؔی دوست دشمن کریں تصدیق وچوں
2025
زمین خریدنے سے پہلے کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور جمع بندی کو سمجھنا ضروری کیوں ہے
زمینی معاملات میں چند بنیادی اصطلاحات ایسی ہیں جن کی درست سمجھ بوجھ کے بغیر زمین کی خرید و فروخت، انتقال، وراثت یا کسی بھی قانونی معاملے میں سنجیدہ نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ خاص طور پر کھیوٹ (Khewat)، کھتونی (Khatauni)، خسرہ نمبر (Khasra Number)، رقبہ (Area) اور جمع بندی (Jamabandi) وہ ستون ہیں جن پر پورا لینڈ ریکارڈ سسٹم کھڑا ہے۔ ان اصطلاحات کو سمجھنا ہر خریدار، فروخت کنندہ اور عام شہری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کھیوٹ کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے کھیوٹ (Khewat) دراصل زمین کے اصل مالک یا مالکان کی فہرست کو کہا جاتا ہے۔ کھیوٹ میں واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ کسی خاص زمین کا مالک کون ہے اور اگر ایک سے زیادہ مالکان ہوں تو ہر مالک کا ملکیتی حصہ کتنا ہے۔ سادہ الفاظ میں کھیوٹ یہ طے کرتا ہے کہ زمین قانونی طور پر کس کی ملکیت ہے۔ کسی
زمین خریدنے سے پہلے کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور جمع بندی کو سمجھنا ضروری کیوں ہے مزید پرھیں
تاریخ پوٹھوہار اور اسکے قبائل پر لکھی جانے والی کتابیں
تاریخ گوجرخان مصنف اکرام الحق راجا گوجرخان رنگ:باوا وسیم الحسین گوجرخان و کہوٹہ روحانیت و تاریخ کے آئینے میں تاریخ ستیاں مصنف صبیر ستی تاریخ سکھو تاریخ ٹیکسلا داستان مری کرم حیدری تاریخ مری :نور الہی عباسی دیار مری(بشمول دیگر سیاحتی پہاڑی علاقہ جات) اے کوہ مری( خوب تیری جلوہ گری ہے) مصنف :برگیڈئیر محمد اسماعیل صدیقی بنت ہمالہ مری اوصاف احمد خان لودھی خیابان مری (تاریخی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کی مفصل روئیداد) مصنف:لطیف کشمیری ٹیکسلا (پنجاب داایک تاریخی شہر) ڈاکٹر الرحمن ڈار راول راج:راولپنڈی،اسلام آباد،تاریخ تہذیب اساطیر مصنف :سجاد اظہر راول دیس:عزیز ملک تاریخ کلر سیداں اور خاندان سادات تاریخ کلر سیداں تاریخ کلر سیداں تاریخ کی زبانی حصہ دوئم:کرامت حسین تاریخ کلر سیداں حصہ چہارم:کرامت حسین کلر سیداں کی کہانی تاریخ کی زبانی:کرامت حسین تاریخ کلر سیداں تاریخ کی زبانی(حصہ سوم):کرامت حسین شہر آرزو راولپنڈی:ایم جاوید اقبال راولپنڈی ڈویژن کی مختصر تاریخ:راجہ محمد خالد جنجوعہ Gazetteers of
تاریخ پوٹھوہار اور اسکے قبائل پر لکھی جانے والی کتابیں مزید پرھیں
پندرہ(15) سالہ بچے کی کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی
Laurent Simons کی غیر معمولی کہانی دنیا کبھی کبھار ایسے انسان پیدا کرتی ہے جو عمر کی قید سے آزاد ہو کر علم کی نئی سرحدیں عبور کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک غیر معمولی نام Laurent Simons کا ہے، جو محض ۱۵ سال کی عمر میں Quantum Physics میں PhD مکمل کر کے جدید سائنس کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا چکا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف سائنسی حلقوں بلکہ عام قارئین کے لیے بھی حیرت اور تجسس کا باعث بنا۔ بچپن جو عام نہیں تھا Laurent Simons کا تعلق Belgium سے ہے۔ ان کا بچپن روایتی بچوں سے بالکل مختلف رہا۔ جہاں زیادہ تر بچے کھیل کود اور اسکول کے ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں، وہیں Laurent نے ۸ سال کی عمر میں High School مکمل کر لیا۔اس کے بعد انہوں نے Bachelor’s Degree جو عام طور پر تین سال میں مکمل ہوتی ہے، صرف ۱۸ مہینوں میں
پندرہ(15) سالہ بچے کی کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی مزید پرھیں
اور علم کا نیا تصور Yuxin Bookstore کی Shenzhenلامتناہی کتابوں کی سرنگ
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور اس تبدیلی کا سب سے گہرا اثر شہروں، سوچ اور علم پر پڑ رہا ہے۔ چین کا شہر Shenzhen اسی تبدیلی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو چند دہائیوں پہلے ایک عام سا علاقہ تھا، مگر آج technology, innovation اور futuristic architecture کی علامت بن چکا ہے۔ اسی شہر میں واقع ایک جگہ ایسی بھی ہے جو کتاب کو محض مطالعے کی چیز نہیں بلکہ ایک visual experience بنا دیتی ہے۔ اس جگہ کا نام ہے Yuxin Bookstore۔ یہ کوئی عام bookstore نہیں۔ یہاں داخل ہوتے ہی قاری ک و یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی sci-fi movie کے سیٹ میں آ گیا ہو۔ فرش اور چھت پر لگے mirrors، دیواروں پر سجی کتابوں کی قطاریں، اور روشنی کا ایسا مربوط استعمال کہ آنکھ دھوکا کھا جائے۔ کتابیں ہر سمت پھیلی نظر آتی ہیں اور ایک Endless
اور علم کا نیا تصور Yuxin Bookstore کی Shenzhenلامتناہی کتابوں کی سرنگ مزید پرھیں
بیوی کے لئے رشتہ دیکھ رہا ہوں
پندرہ برس کے تجربے میں بعض واقعات محض یادداشت کا حصہ نہیں بنتے بلکہ دل کے کسی گوشے میں مستقل رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی واقعہ تھا۔ ایک خاموش رات، دفتر تقریباً خالی، شہر معمول کے مطابق روشن مگر دل کسی انجانی تشویش میں مبتلا۔ استقبالیہ سے اطلاع آئی کہ ایک میاں بیوی اکیلے میں ملنا چاہتے ہیں۔ لہجے کی سنجیدگی نے مجھے فوراً چونکا دیا۔ ایسی درخواستیں عام نہیں ہوتیں اور جب ہوتی ہیں تو اکثر اپنے ساتھ کوئی بھاری سچ لے کر آتی ہیں۔وہ دونوں میرے سامنے بیٹھے تھے۔ لباس میں سادگی، انداز میں وقار اور آنکھوں میں وہ تھکن جو صرف وقت یا گہرا دکھ چھوڑ جاتا ہے۔ اگر کوئی اجنبی انہیں دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ یہ ایک مطمئن اور کامیاب جوڑا ہے، مگر میں جانتی تھی کہ اصل کہانیاں اکثر خاموش نظروں میں لکھی ہوتی ہیں۔ چند رسمی جملوں کے بعد
بیوی کے لئے رشتہ دیکھ رہا ہوں مزید پرھیں