چکوال(علی خان) ایشیاء کے تیز ترین اتھیلیٹ صوبیدار عبدالخالق پرندہ کی بیوہ محترمہ ولایت بیگم آج انتقال کر گئی ہیں۔ سابق اولمپئین کی اہلیہ کی عمر قریباً پچاسی برس تھی اور وہ گزشتہ کئی دن سے راولپنڈی کے فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔ان کی نماز جنازہ آج رات ساڑھے نو بجے چکوال کے قصبہ جند اعوان میں ادا کی جائے گی۔ وہ صوبائی اتھلیٹکس کے کوچ ملک محمد اعجاز اور ملک غلام عباس، ملک محمد اشفاق مرحوم اور ملک محمد رزاق کی کی والدہ ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں۔ان کے خاندان میں کئی نامور ایتھلیٹ اور کبڈی کے کھلاڑی بھی پیدا ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ نامور اتھلیٹ عبدالخالق مرحوم ایتھلیٹکس میں پاکستان کے پہلے میگا ایتھلیٹ تھے۔ان کا انتقال دس مارچ 1988ء کے دن ہوا تھا۔ انھوں نے قومی سطح پر سو اور انتیس بین الاقوامی سونے کے میڈلز کے ساتھ کئی سلور اور کانسی کے میڈل حاصل کیے تھے۔ مرحومہ ولایت بیگم نے اپنے ایک انٹرویو میں صوبیدار عبدالخالق مرحوم کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔
”ان کی زندگی میں پہلے پہل مجھے علم نہ تھا کہ خالق بڑا بندہ ہے۔مجھے وہ اپنی فتوحات کے قصے سناتا رہتا تھا مگر مجھے نام اور مقام یاد نہیں رہے۔ سکھوں سے مقابلوں کی بھی کئی باتیں مجھے یکسر بھول چکی ہیں“۔
”وہ ہمیشہ سے ساتھ تھا اور رہے گا۔ کھلاڑی کا زیادہ مجھے علم نہیں مگر انسان وہ گویا سونے کا بنا تھا۔ میرا میکہ مٹالی(گوجر خان) میں تھا اور وہ میرے ساتھ جایا کرتا تھا۔ وہ جو کچھ کما کر لاتا بے جی کے ہاتھ پر رکھ دیتے۔ گھر میں اُس شخص نے لڑائی جھگڑا تو درکنار کبھی گالم گلوچ تک نہ کی۔ اُسے گالی اورپھر خواتین کو دیناآتا ہی نہ تھا۔ آخری دنوں میں جب اُس نے کمر درد کی شکایت کرنا شروع کی تو میں نے اُس کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ اس حالت میں بھی اُس نے میرا خیال رکھا۔ ایک دن مجھے کہا کہ جب تک زندگی ہے اچھی نیت سے ناک کی سیدھ میں چلنا کبھی پریشان نہ ہو گی۔" مجھے فخر ہے کہ زندگی میں عبدالخالق جیسے انسان کا ساتھ ملا۔ اُن کی موت کے وقت میں بھی بے جی کے ساتھ اُن کے سرہانے موجود تھی۔ انسان لوٹ کر نہیں آتے مگراگر ایسا ہوتا تو میری سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی۔ بیت اللہ میں جا کر بھی اس کے لیے دعائیں کیں۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے بس عبدالخالق کے نام پر چکوال شہر کے سٹیڈیم کا نام رکھ دیا جائے۔ یہ اُس کی ملک کے لیے خدمات کا صلہ ہوگا"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔ بلاگ پر تمام خدمات بلا اجرت فی سبیل اللہ ہیں بس آپ سے اتنی گزارش ہے کہ بلاگ کو زیادہ سے زیادہ شئیر ،کمنٹس اور لائیک کریں ۔آپ اپنی پسندیدہ کتاب کی فرمائش کر سکتے ہیں۔اگر کسی کتاب کو ڈون لوڈ کرنے میں پریشانی ہو تو آپ کمنٹس میں لکھ دیجئے ان شاء اللہ اسکا لنک درست کر دیا جائے گا