موسم سندر سہانا سرور تک کے چاہت وصل دی سجناں کئی بار آئی اے |
چشم نم سنگ عرضاں گزار دتیاں آہ لباں تک کرنے اظہار آئی اے |
ٹٹ جائے نہ ننھی امید کملی حسرت دلے نال کرنے ادھار آئی اے |
کلیاں بدلے لباس الیاس عازؔم توں وی مڑی آ مڑ بہار آئی اے |
درد دل نہ ھوتا گر عشق اندر ظاہر ھوتا پھر کیسے پیار کیا ھے |
کلیاں بن کے پھول نہ بکھر جاتیں ھوتی خزاں کے بعد بہار کیا ھے |
گرد شمع نہ جلتے گر خاک پروانے جانم جانتے کیسے جانثار کیا ھے |
عازؔم جلتے مزاروں پہ دیپ کیسے کیسے جانتا ساقی میخار کیا ھے |
لڑ کھڑا نہ جائیں خیال دل کے کچھ تو بولو کہ دل کو یقیں آئے |
کھولو کوئی تو گرہ پیار کی تم شاید وصل ھی باعث تسکین آئے |
توڑو سوچ پہ پہرے حماقتوں کے کیا خبر کب وائے گل چین آئے |
کب سے رکھی امید اک دید عاؔزم پھر سے یاد وہ چہرے حسین آئے |
نہ تھی فکر اے درد فراق تیری مر جاتے ھم دید سے پہلے پہلے |
نہ یہ ھوتا ملا ل دیوانگی کا سنبھل جاتے مزید سے پہلے پہلے |
تم کیا جانو ھے جلوہء جنون کی سا دیکھے خواب کیا نیند سے پہلے پہلے |
کب سے رکھی امید دید عاؔزم آ جاؤ ساجن تم عید سے پہلے پہلے |
بیٹھے اخگر نشمین دی کرن راکھی تکو کینویں آجاڑیا چمن سارا |
بکھرے پھل تے کلیاں مرجھا گئیاں ملیا خاک وچ غنچہ ء دھن سارا |
کچھ تے خزاں کم بخت جمائے ڈیرے کر گئی زرد ایہہ تن و بدن سارا |
عاؔزم حق نی گل سر عام کرساں اے ظالم لٹ کے کھا گئے وطن سارا |
ہفتہ، 30 اگست، 2025
الیاس عازؔم کی شاعری
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔ بلاگ پر تمام خدمات بلا اجرت فی سبیل اللہ ہیں بس آپ سے اتنی گزارش ہے کہ بلاگ کو زیادہ سے زیادہ شئیر ،کمنٹس اور لائیک کریں ۔آپ اپنی پسندیدہ کتاب کی فرمائش کر سکتے ہیں۔اگر کسی کتاب کو ڈون لوڈ کرنے میں پریشانی ہو تو آپ کمنٹس میں لکھ دیجئے ان شاء اللہ اسکا لنک درست کر دیا جائے گا